بنگلورو،5؍اکتوبر (ایس او نیوز) کانگریسی لیڈر ڈی کے شیوکمار کے تعلق سے بدعنوانی کی تحقیقات کے لئے آج صبح کی اولین ساعتوں میں سی بی آئی نے بنگلورو ،ممبئی اور دہلی جیسے شہروں میں ڈی کے شیوکمار کے مختلف ٹھکانوں پر بیک وقت چھاپے مارے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ سی بی آئی نے انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے معلومات فراہم کیے جانے پر کرناٹکا پردیش کانگریس کے صدر ڈی کے شیو کمار پر مبینہ بدعنوانی کا معاملہ درج کیا ہے اور اس کی تحقیقات کے لئے بنگلورو میں شیوکمار کے مکان، کنکا پورا میں واقع گھر، ان کے بھائی ڈی کے سریش کے گھر، ان کے قریبی ساتھی ششی دھر شیونّا سمیت 15 سے زیادہ مقامات پرچھاپہ ماری کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ منی لانڈرنگ (غیر قانونی طور پر رقم منتقل کرنے )کے ذریعے ٹیکس چوری کرنے کا ایک معاملہ دوسال پہلے شیو کمار کے خلاف درج کیا تھا اور اس معاملے کی تحقیقات کے دوران ای ڈی نے گزشتہ سال سی بی آئی کو کچھ اہم معلومات فراہم کی تھیں ، اور اس بنیاد نے سی بی آئی نے کل ہی بنگلورو کے دفتر میں ڈی کے شیوکمار کے خلاف آمدنی سے زیادہ جائداد رکھنے کا کیس درج کرلیاتھا۔
معلوم ہوا ہے کہ بنگلورو میں سی بی آئی کے سپرنٹنڈنٹ تھامسن جوز کی قیادت میں 60سے زیادہ سی بی آئی افسران کی ٹیم مختلف دستاویزات کی چھان بین کررہی ہے۔ چھاپہ مار ٹیم میں دہلی ، حیدرآباد اور چینئی سے بھی سی بی آئی افسران شامل رہنے کی بات بھی کہی جارہی ہے۔
سی بی آئی کی اس کارروائی کے تعلق سے کانگریسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضمنی اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں اپوزیشن پارٹیوں پر دباؤ بنانے اور بڑے لیڈروں کو ہراساں کرنے کے لئے بی جے پی کی یہ منصوبہ بندی ہے ۔ کرناٹکا معاملات کے لئے نگراں کانگریس جنرل سیکریٹری رندیپ سنگھ سورجے والا نے کہا :’’شیوکمار کے ٹھکانوں پر یہ چھاپہ ماری مودی اور ایڈی یورپا کی طرف سے ہمیں خوف زدہ کرنے کی مکارانہ ساز ش ہے۔اس سے ہم ڈرنے اور ہمت ہارنے والے نہیں ہیں۔ایڈی یورپا ،مودی اور بی جے پی کےمقاصد پوری کرنے والے سی بی آئی ، ای ڈی اور انکم ٹیکس جیسے محکمہ جات کو جان لینا چاہیے کہ کانگریسی کارکنان اور ان کے قائدین ایسی شیطانی چالوں سے نہ ڈرنے والے ہیں اور نہ جھکنے والے ہیں۔اس سے صرف عوام کے لئے لڑنے اور بی جے پی کی بدعنوانی اور بدعملی اجاگر کرنے کے لئے ہمارا عزم اور بھی زیادہ مضبوط ہوجاتا ہے۔‘‘
دوسری طرف یہ بھی خبر ملی ہے کہ ڈی کے شیوکمار کے بنگلورو ٹھکانے پر 50لاکھ روپے زیاد ہ رقم سی بی آئی کے ہاتھ لگی ہے ، جسے ضبط کرلیا گیا ہے۔ افسران اس رقم کے سلسلے میں تفتیش کررہے ہیں کہ آیا یہ بیلگاوی کی ایک زمین سے متعلق رقم ہے یا پھر ضمنی انتخاب کے لئے جمع کی گئی غیر محسوب رقم ہے۔